Sleep of My Eyes
اپنوں کی رنجشوں نے مجھے خاموش کرا دیا فاقی
لوگ کہتے ہیں کہ میں مغرور ہو گیا ہوں
اسے کہہ دو میرے خوابوں میں چھوڑ دے فاقی
میرے وقتِ سحر نینوں میں آنسو اب نہیں چھپتے
کبھی آنسو نہیں دیکھے تیری آنکھوں میں اے فاقی
یہ کہہ کر تاقیامت وہ اشکِ جدائی دے گیا مجھ کو
اسی شخص نے بخشے ہیں میری آنکھ کو اشکوں کے سمندر فاقی
وہ جس شخص نے ہنسنا سیکھایا تھا کبھی مجھ کو
افسوس کہ تو نہ سمجھا مقصدِ تخلیقِ جہاں فاقی
فقط اس میں ہی تو بنے ہیں یہ زمین و آسماں سارے
کیسے کہہ دوں کہ وہ بے وفا ہے فاقی
اس نے مجھے کھویا ہے کسی سے وفا کی خاطر
وہ جو شب و روز میرے سپنے دیکھتے تھے فاقی
آج سرِ راہ ملے تو بولے جانی پہچانی صورت ہےتمہاری
میں تیرے خواب دیکھنے کو بھی ترس گیا ہوں فاقی
تیری یادوں نے میری نیندیں ہی چرا لی ہیں
لوگ کہتے ہیں میری سوچ ہی غلط ہے فاقی
میں برسوں یہی سوچا کہ تو میرا ہے
Comments
Post a Comment