I Miss You



اپنے دل کی دھڑکن تیرے نام کر رہا ہوں

تجھے پانے کی خواہش میں تڑپ رہا ہوں

جینے سے  تو میرا دل  بھر  گیا ہے  فاقی

تیرے دیدار کی خواہش میں جی رہا ہوں






کچھ لوگ بھی سپنوں کی طرح ہوتے ہیں

 آنکھوں میں آنسو کی طرح ہوتے ہیں

 دل شیشہ ہوا کرتا  ہے جان کر بھی فاقی

 کتنی بیدردی سے توڑ کے چلے جاتے ہیں





جوشخص کھو گیا تھا مجھ سے چاندنی راتوں میں

بہت یادآ تا ہے مجھے چاندنی راتوں میں

آج تو کوئی اسے ڈھونڈ کے لاۓ فاقی

کہ چاند بھی رورہا ہے چاندنی راتوں میں



کبھی ہو  سکے  تو   میرے   اک  سوال   کا     جواب        دے

مجھے چھوڑ کے  تو  کیوں  گیا  کوئی     ایک    تو      جواز      دے 

تو   ہے   بے   وفا      تجھے   اور       کیا    کوئی       خطاب      دے 

جو گیا ہے تو انہیں لے کے جا مجھے یادوں کا نہ عذاب دے



سنواے بیوفالیلٰی


سنواے بیوفا لیلٰی! اتمہیں تنہا بھی جی کر میں دیکھاؤں گا

تیری یادوں میں رو کر میں نہیں خود کو ستاؤں گا


 بہت روؤ گی تنہا تم تمہیں میری وفائیں یاد آئیں گی

 مجھے ڈھونڈو گی اس لمحےمگر میں بھول جاؤں گا


 تیری راتیں کئیں گی سسکیاں لے کر ، نہ کوئی پیار دے گا

  تیرے خوابوں میں آ کر پھر تجھے میں بھی ستاؤں گا 


نہیں کوئی بھی شکوہ یا شکایت اب ، فقط فاقی نے اتنا ہی تو کہنا تھا

 سنو اے بیوفا لیلٰی تمہیں تنہا بھی جی کر میں دیکھاؤں گا





                  بیوفا ہوتم 


کہا بھی تھا اگر دل بھر جاۓ تیرا 

مجھے ساجن بتا دینا

 تمہیں جسکی بھی چاہت ہو 

تمہیں جسکی ضرورت ہو ،

 تیرے قدموں میں لا دوں گا 

تمہیں کس بات کا ڈر تھا کہ تم مجھکو گنوا دو گے 

میں تمکو بیوفا کا لقب دے دوں گا

 ارے پاگل ! محبت کی طبیعت میں یہ خود غرضی نہیں ہوتی 

ہجر کی آگ میں خود کو جلا کر بھی

 غموں سے چور ہو کر بھی

فقط محبوب کو خوشیاں دلاتے ہیں

مگر جب ختم یہ قصہ سے تو اب اتناہی کہتا ہوں

 بہت ہو بیوفا ہوتم ، بہت ہی بیوفا ہوتم





 آۓ  دل   بے   قرار   کو   جب    یاد   تیری

آنسو مجھ سے تب   نہیں    روکے      جاتے

کیسے   مٹاؤں    میں   دل  سے   یاد   تیری

زندگی میں دھڑکنے سے دل نہیں روکے جاتے 


Comments

Popular posts from this blog

AdSense Not Approved? Try Adsterra

Nobel Prize Awarded to Covid Vaccine Pioneers

Hawkins County Man Completes Appalachian Trail

Contact Form

Name

Email *

Message *