Biggest Dream of Life
کوئی اجنبی تھا ایسا جو رولا گیا مجھ کو
اس جہاں کے سارے غم دلا گیا مجھ کو
روزِ محشر بھی اب نہ اٹھ سکوں گا فاقی
وہ ہجر کا ایسا جام پلا گیا مجھ کو
تیرے بن جی نہیں سکتا، تجھے کیسے بتاؤں میں
دل میں ہیں زخم جتنے، تجھے کیسے دیکھاؤں میں
تم نے تو مجھے سمجھا ہی نہیں اپنا فاقی
خود ہی بتا غیروں کو حالِ دل کیسے سناؤں میں؟
جس شخص کی خاطر ہنستے تھے
جس شخص کی خاطر روتے تھے
اسی نے کر دیا قتل ہم کو
جس شخص کی خاطر جیتے تھے
سپنے کی آیا اور تنہا کر کے چلا گیا مجھے
دوپل ساتھ نبھایا پھر بھلا کے چلا گیا مجھے
جانے کس جرم کی سزا دی اس نے مجھے فاقی
پہلے ہنسایا پھر رولا کے چلا گیا مجھے
اپنے دل کی دھڑکن تیرے نام کر رہا ہوں
تجھے پانے کی خواہش میں جی رہا ہوں
پل دو پل کا ساتھ نبھانے والے
میں ساری زندگی تیرے نام کر رہا ہوں
چاندنی راتوں میں تیری یاد ستاتی ہے مجھے
بے وفا تو ہو گیا یہی بات رولاتی ہے مجھے
آتے ہیں میری آنکھ میں اشکوں کے سمندر فاقی
جب راتوں میں تیری یاد ستاتی ہے مجھے
پسند اس دی
اسے بے وفا نے آج رولا دیتا
جس نال ہاسیاں چہ زندگی گزار دیتی
او یار وی مینوں آج چھوڑ گیا
جس دی خاطر میں دنیا نال مکا دیتی
فاقی جائزے نہ جانڑے پسند اس دی
میں تے جند یار دے ناں ہنٹر لا دیتی
آخری عرض
اے صبا میرے یار سے کہنا
آج یار بلایا ہے رولانے کیلئے
جو رو دیتا تھا تجھکو ہنسانے کیلئے
آج اسی نے بلایا ہے رولانے کیلئے
آجااب کے پھر وہ تجھ کو بلائے گا نہیں
آج تو لب چوم کے تجھکو ستاۓ گا نہیں
تو اسکی بزم میں تھک جا تا تھا
آج تیرے ساتھ وہ لمبی محفل بھی سجائے گا نہیں
تو اسکی بانہوں میں گھبراتا تھا
آن وہ تجھے سینے سے لگاۓگا نہیں
آج تو خود غرضی کی قسم توڑ کے آ جا
کہ آج کے بعد تو فاقی لوٹ کے آۓ گا نہیں
Comments
Post a Comment