Broken Star
اس کی تمنا ہے تجھے روٹھا ہوا دیکھے کسی روز اے فاقی
ناداں کو یہ معلوم نہیں ٹوٹ کے تارہ کبھی سمٹا نہیں کرتا
ہم تو اجنبی بھی آزما چکے ہیں فاقی
لوگ کہتے ہیں کہ اپنوں میں وفا نہیں ملتی
مانا میں بہت ناداں ہوں فاقی
مگر تیری طرح جذبات سے کھیلا نہیں کرتا
تیری یادوں میں فقط اتنا ہی روئے فاقی
چپ جو ہوئے دنیا وصال سمجھ بیٹھی
میں تیرے دل میں گھوم گھوم کے تھک گیا فاقی
مجھے ذرا بھی جگہ نہ ملی پیار کو دفنانے کے لیے
تیرے دل میں جانے پہ سزائے سلاسل ہے مجھے فاقی
میرے دل کی ہر گلی میں تیرے نام کا پہرہ ہے
تیرے قاتل وہی نکلے ارے فاقی
جنہیں اپنا مسیحا تم سمجھتے تھے
اب اتنی نفرت کیسے ہو گئی مجھ سے فاقی
تو نے کہا تھا محبت کے بنا کچھ سیکھا نہیں ہم نے
تو نے اس سے محبت تو نہ کی تھی فاقی
پھر آج اس کے چلے جانے پہ یہ آنسو کیوں ہیں؟
Comments
Post a Comment