People and Law of Pakistan

 پاکستان کی عوام اور قانون

دنیا بھر میں عوام کو ناانصافی ، ظلم اور فراڈ سے بچاؤ کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں، یہ قوانین بنانے کے لیے ہی صوبائی و قومی اسمبلیاں تشکیل پاتی ہیں اور ملک کے کرتا دھرتا ان قوانین پر عمل کرواتے ہیں، اور قانون توڑنے والوں کو عدالتوں میں پیش کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جاتی ہے، تاکہ آئندہ کوئی ایسا جرم نہ کرے۔ یہ منظر کشی ہمارے ہاں کے لیے کتنی درست ہے اور کتنی غلط میں یہ فیصلہ آپ کی سوچ کی عدالت میں چھوڑتا ہوں، لیکن دو چھوٹے چھوٹے واقعات یا حالات کو بطور چشم دید گواہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
گورنمنٹ کی طرف سے پیش کردہ سالانہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہر سال ملک میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کی بھی بنیادی تنخواہ میں اضافے کا اعلان کیا جاتا ہے اور وہ اضافہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی نسبت ذیادہ کیا جاتا ہے اور اس چیز کو ہر گورنمنٹ اپنے پورٹفولیو پر بہت نمایاں مقام دیتی ہے کہ ہم نے بنیادی تنخواہ میں اتنا ذیادہ اضافہ کر دیا ہے، مثلاً اب موجودہ بنیادی تنخواہ 32000 ہے ، مگر ہزاروں کے حساب سے سرکاری ملازمین ایسے ہیں جن کی تنخواہ 30000 کےلگ بھگ ہی ہے، اور کئی سرکاری اداروں میں جہاں کچھ چیزوں کو آوٹ سورس یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکے پر دے دیا گیا ہے وہاں کام کرنے والے افراد 25 ہزار سے بھی کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔
آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ اس عوام کے ساتھ مذاق نہیں ہے؟؟؟
موٹر سائیکل کے حادثات میں اکثر سر کی چوٹیں اور جبڑے کے ٹوٹنے کے امکانات بہت ذیادہ ہوتے ہیں اور ہر سال ہزاروں لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں یا مستقل معذور ہو جاتے ہیں، ہیلمٹ پہننے کی اگر بات کریں تو پہلی بات کے ہمارے ہاں ہیلمٹ صرف اس لیے پہنا جاتا ہے کہ ٹریفک پولیس کے جرمانے سے بچا جائے، اور جیسے ہی احساس ہوتا ہے اب ہمارے سامنے پولیس نہیں ہے تو ہیلمٹ اتار کر سائیڈ پر لٹکا دیا جاتا ہے۔
دو دن پہلے میں بائیک پر گھر واپس جاتے ہوئے ایک پیٹرول پمپ پر رکا وہاں سے کولڈ ڈرنک لی اور واپس جیسے ہی بائیک سٹارٹ کیا تو ایک بائیک والے نے میرے پاس رک کر کہا
" ہیلمٹ کچھ منٹ کے لیے دے دیں پیٹرول ڈلوا کر واپس کر دوں گا"
میں ایک منٹ کے لیے حیران ہوا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، خیر میں نے اسے اپنا ہیلمٹ کچھ دیر کے لیے دیا اور وہ بھائی پیٹرول ڈلوا کر مجھے ہیلمٹ واپس کر گئے۔
اگلے دن میں ہسپتال جا رہا تھا تو پیٹرول ڈلوانے کے لیے اسی پمپ پر رکا، ہیلمٹ اتار کر بائیک کے ساتھ لگا دیا تو وہ فلر بوائے بولا کہ بھائی جان تکلیف کے لیے معزرت مگر ہیلمٹ پہن لیں۔ یعنی پیڑول ڈلواتے وقت ہیلمٹ ہونا ضروری ہے، مجھے غصہ تو بہت آیا مگر اس بچارے کو کچھ کہنے کا فائدہ نہیں تھا۔
خیر وہاں بے شمار لوگ ایک دوسرے سے ہیلمٹ ادھار لے کر پیڑول ڈلواتے اور پھر ہیلمٹ اصل مالک کو واپس کر کے جی ٹی روڈ پر 70, 80 کی سپیڈ سے موٹر سائیکل بھگاتے ہوئے اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے۔
میں وہاں کھڑا اس منظر کو دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ جی ٹی روڈ پر 90 فیصد لوگ بغیر ہیلمٹ کے سفر کر رہے ہیں مگر وہاں انہیں روکنے والا کوئی نہیں اور ناں ہی خود عوام کو احساس ہے مگر پیڑول پمپ پر پیٹرول ڈلواتے وقت پر سر پر ہیلمٹ فرض ہے، سلام ہے قانون بنانے والوں کو، سلام ہے عمل درامد کروانے والوں کو اور سلام ہے عوام کو !
واہ رہے میرا دیس!

Comments

Popular posts from this blog

AdSense Not Approved? Try Adsterra

Nobel Prize Awarded to Covid Vaccine Pioneers

Hawkins County Man Completes Appalachian Trail

Contact Form

Name

Email *

Message *